تم پہ گزرے تو "آہ"
ہم پہ گزرے تو "واہ"...
زخم کھا کھا کے ہوا یہ بھی تجربہ ہم کو
حد سے بڑھ جائے تو پھر درد سکوں دیتا ہے
سارا جگ ہوے شاکر اِک پاسے۰۰۰
ساڈے یار دی رونق وکھری اے ۰۰۰
تمہاری آنکھ سے ٹپکے تو معتبر ٹھہرے
هماری آنکھ سے بہتا رها فقط پانی
آخری بار وہ اس شان سے بچھڑا تھا کہ پھر
اٌس سے ملنے کو کبھی ۔۔۔۔۔ دل نہیں مانا اپنا!!
کبھی کسی چــــــــیز کو نا ترسنے والے
کسی کی آواز کو تـــــرس جاتے ہیں
بات کردار کی کرتا ہی نہیں ہے کوئی
لوگ کہتے ہیں بتا کتنا کما لیتا ہے
خوش رہے وہ اپنی۔خوشی میں۔
مرشد
ہم خوش ہیں اسی۔خوشی میں
دُکھ جب حد سے _____ بڑھ جاتاہے تو
انسان روتانہیں بلکہ خاموش ہوجاتاہے۔
زندگی میں اک بار عشق زور کرنا
پتا چلے گا کیوں نہیں کرنا تھا
میں نے اِک شخص جیت کر ہارا
اب مجھے کھیل کے میدان بُرے لگتے ہیں
معصوم چہرہ آنکھوں میں #نزاکت
کیسے ممکن ہے کوئ دیکھے اور فدا نہ ہو
وقت کے ہاتھ سے گر کر ہوئی ریزہ ریزہ
زندگی بکھری کچھ ایسے کہ سمیٹی نہ گئی
محبت کو یہاں تک آج کے انسان لے آئے
جہاں دیکھا حسین چہرہ وہاں ایمان لے آئے
سنا ھے ھاتھوں پے منہدی .... رچائے پھرتی ھے!
جو مجھ سے کہتی تھی بچھڑے تو نبض کاٹوں گی
اس نے جب کہا برے ہو تم۔
میں نے پھر برائیوں کی حد کر دی


1 Comments
Fallow my website
ReplyDelete